اصغر علی بلوچ ۔۔۔ یوں تو ہنستے ہنساتے رہتے ہیں

یوں تو ہنستے ہنساتے رہتے ہیں
زخم دل کے چھپاتے رہتے ہیں

یہ ہے دنیا سدا رہے گی یونہی
لوگ یاں آتے جاتے رہتے ہیں

دوست ہوتے تھے جو کبھی اپنے
آج کل منہ چھپاتے رہتے ہیں

وقت ہوتا ہے ہم نہیں ہوتے
وقت ایسے بھی آتے رہتے ہیں

ریت اندر کی سمت گرتی ہے
ہم جو طوفاں اٹھاتے رہتے ہیں

تو سنے یا نہیں سنے مرے دوست
ہم ترے گیت گاتے رہتے ہیں

اس قدر آگ ہے یہاں اصغر
اپنا دامن بچاتے رہتے ہیں

Related posts

Leave a Comment